Home  |  About Us  |  History  |  Photo Gallery  |  Contact Us   
 
Welcome to Iqbal Channel
برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خود مختار ملک دینے کیلئے یوں تو بہت سے مسلمان اکابرین اور رہنمائوں نےبہت سی کوششیں کی مگر تاریخ گواہ ہے کہ جس انداز سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ نے سوئی ہوئی مسلمان قوم کیلئے کوشش کی وہ تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ آج بھی چمک رہی ہےبلکہ اُن کے انداز فکر سے بہت سے ممالک نے استفادہ حاصل کیا اورکامیابیاں حاصل کیں اور کر رہے ہیں اورپھران قوموں نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کو اپنا رہنماء تسلیم کیاہے ۔ یقیناً خواب غفلت میں سوئےہوئے اُس وقت کے مسلمانوں پر علامہ کا بہت بڑا احسان تھا کہ جن کےفکر نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا بلکہ ایک ناقابل تسخیر قوت بناکر اُس وقت کے ظالموں اور جابروں سے ایک آزاد اور خود مختار وطن حاصل کیاجس کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ جیسے عظیم اور بہادر لیڈر کا چنائوں کیا گیا تھا یہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا ہی فکر تھا کہ انہوں نے قائد اعظم جیسی شخصیت کو اپنے فکر میں ایسا رنگ دیا تھا کہ وہ لے کے رہیں گے پاکستان اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے میدان عمل میں اُترے۔ جنہوں نے ثابت کردیا کہ وہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ کی فکر سے بننے والا پہلا اقبال ؒ کا شاہین ہے۔ آج اقبال چینل کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر علامہ اقبال کے فکر سے ایک آزاد مملکت کا قیام عمل میں آسکتا ہے تو پھر آج ان کا فکر دوبارہ زندہ اورعام کرنے سے ہمارا پیارا وطن پاکستان موجودہ بحرانوں سے نکل کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف اوّل میں کھڑا ہو سکتا ہے اِن شاء اللہ ۔لہذا جہاں تک ممکن ہو سکے علامہ ڈاکٹر محمداقبال ؒ کےفکر کو ہر پاکستانی عام کرے اور اُن کا فکر رکھنے والے آج کے اقبال ؒ کے شاہین کا ساتھ دے۔پاکستان زندہ باد ۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒ پائندہ باد
 
علامہ اقبال کے خادم میاں علی بخش کو علامہ کے ہاں ایسا نا قابل فراموش واقعہ پیش آیا جسے وہ عمر بھر یاد کرتے رہے ۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبد الستار نیازی اس واقعے کے اصل راوی تھے ۔واقعہ نصف شب کی کہانی مولانا صاحب کی زبانی
گوجرانوالہ کے ایک بزرگ علی بخش کے پاس آۓ اور کہا کہ انھیں علامہ اقبال کی زندگی کے کچھ واقعات بتائیں ۔ علی بخش نے جوب دیا " میں ساری باتیں کہہ چکا ہوں ، اب کو ئی بات باقی نہیں رہی ۔ جب اس بزرگ نے اصرار کیا تو علی بخش نے کہا "ہاں" ایک واقعہ ایسا ہے جو پیش آیا مگر علامہ اقبال نے اسکی تفصیلات مجھے نہیں بتائیں ایک روز علامہ صاحب میری فداکارانہ خدمت سے مسرور تھے ۔ اور مجھے کہا ، علی بخش بتاؤ تمہیں کیا دوں کہ تم خوش ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا کہ جو معاملہ آپ کو ایک دن پیش آیا تھا اور میں نے اسکے بارے میں آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے بتانے سے انکار کر دیا تھا ۔ وہ بتائیں ۔ علامہ نے فرمایا " اب بتانا چاہتا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ میرے( حین حیات )عمر بھرکسی کو نہ بتانا ، البتہ میری زندگی کے بعد بتا سکتے ہو ۔ وہ واقعہ یوں ہے ۔
ایک روز نصف شب آپ (علامہ اقبال) بستر پر لیٹے ہوۓ تھے بے حد بے چین اور مضطرب تھے ۔ دائیں بائیں کروٹ بدلتے تھے ۔ یکایک آپ اٹھ کھڑے ہوۓ اور کوٹھی (میکلوڈ روڈ ) کے دروازے کی طرف گۓ ۔ میں بھی پیچھے چلا گیا ۔ اتنے میں ایک پاکیزہ بزرگ اندر داخل ہوۓ ۔ ان کا لباس خوبصورت اور سفید تھا ۔ انھیں آپ اندر لے آۓ اور پلنگ پر بٹھا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر بزرگ کے پاؤں دبانے لگے ۔ اس دوران علامہ صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کے لۓ کیا لاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دہی کی لسی بنا کر پلا دو ۔ اس پر علامہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ جگ لیکر جاؤ اور لسی بنوا کر لے آؤ ۔ میں حیران تھا کہ اس وقت لسی کہاں سے حااصل کروں ۔ بھاٹی گیٹ جا کر کسی مسلمان کی دکان سے بنوا کر لاؤں یا اسٹیشن جاؤں ۔ جونہی میں کوٹھی سے باہر نکلا تو کوٹھی کے سامنے ایک بازار دکھائی دیا ۔ جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ بازار میں مجھے ایک لسی والے کی دکان نظر آئی ۔ میں اس کاے پاس گیا اور اسے کہا مجھے جگ میں لسی بنا کر دے دو ۔ اس نے جگ مجھ سے لیکر اچھی طرح دھویا ۔ پھر ایک دہی کی صحنک (کونڈا) اٹھا کر اپنے گڈوے میں لسی بنائی ۔اور جگ میں بھر دی ، میں نے پیسے پوچھے تو سفید ریش بزرگ نے جواب دیا کہ علامہ صاحب سے ہمارا حساب چلتا رہتا ہے ۔ تم لے جاؤ اور ان کو پیش کر دو ۔ میں جگ لیکر آیا اور حضرت علامہ کو پیش کر دیا ۔حضرت نے ایک گلاس بھر کر ان سفید ریش روحآنی بزرگ کو پیش کیا ۔ انہوں نے پی لیا ۔ پھر دوسرا گلاس بھر کر دیا وہ بھی انہوں نے پی لیا جب تیسرا گلاس بھرا تو بزرگ نے کہا خود پی ۔ کافی دیر تک علامہ اقبال ان بزرگ کے پاؤں دباتے رہے اور باتیں کرتے رہے ۔ کچھ دیر بعد وہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوۓ اور کوٹھی سے باہر نکلنے کے لۓ چل دئیے ۔ علامہ صاحب بھی انکے ساتھ نکلے ۔ میں بھی انکے پیچھے چلا ۔ وہ بزرگ کوٹھی سے باہر نکلے تو اچانک غائب ہو گۓ میں حیران تھا کہ یہ کون تھے ؟ اب کہاں چلے گۓ اور پھر وہ سامنے بازار بھی نہ تھا ، جس کے ایک دکاندار نے مجھے لسی بنا کر دی تھی ۔
" اس دن میں نے پوچھا حضرت یہ بزرگ کون تھے اور دکان پر بیٹھے ریش دار بزرگ کون تھے ؟ علامہ اقبال نے فرمایا کہ میں انکے نام بتاتا ہوں لیکن میری زندگی میں کسی کو نہ بتانا جو بزرگ کوٹھی میں تشریف لاۓ اور لسی پی وہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ تھے اور جس بزرگ نے لسی بنا کر دی وہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔
(سید محمد عبداللہ قادری کے مضمون " سید علی ہجویری مخدوم امم اور حضرت علامہ اقبال رح " سے اقتباس
بشکریہ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ نومبر ٢٠٠٥
 
 
Your Name:
Email Adress:
Comments:
 
info@iqbalchannel.com  
 
Home  |  About Us  |  History  |  Photo Gallery  |  Contact Us